میر تقی میر
ساتھ ہو اک بے کسی کے عالم ہستی کے بیچ
ساتھ ہو اک بے کسی کے عالم ہستی کے بیچ
باز خواہ خوں ہے میرا گو اسی بستی کے بیچ
عرش پر ہے ہم نمد پوشان الفت کا دماغ
اوج دولت کا سا ہے یاں فقر کی پستی کے بیچ
ہم سیہ کاروں کا ہنسنا وہ ہے میخانے کی اور
آگئے ہیں میر مسجد میں چلے مستی کے بیچ