میر تقی میر میر تقی میر

فائدہ مصر میں یوسفؑ رہے زندان کے بیچ

فائدہ مصر میں یوسفؑ رہے زندان کے بیچ بھیج دے کیوں نہ زلیخا اسے کنعان کے بیچ تو نہ تھا مردن دشوار میں عاشق کے آہ حسرتیں کتنی گرہ تھیں رمق اک جان کے بیچ چشم بد دور کہ کچھ رنگ ہے اب گریہ پر خون جھمکے ہے پڑا دیدئہ گریان کے بیچ حال گلزار زمانہ کا ہے جیسے کہ شفق رنگ کچھ اور ہی ہوجائے ہے اک آن کے بیچ تاک کی چھائوں میں جوں مست پڑے سوتے ہوں اینڈتی ہیں نگہیں سایۂ مژگان کے بیچ جی لیا بوسۂ رخسار مخطط دے کر عاقبت ان نے ہمیں زہر دیا پان کے بیچ دعوی خوش دہنی اس سے اسی منھ پر گل سر تو ٹک ڈال کے دیکھ اپنے گریبان کے بیچ کرتے ململ کے پہن آتے تو ہو رندوں میں شیخ صاحب نہ کہیں جفتے پڑیں شان کے بیچ کان رکھ رکھ کے بہت درد دل میر کو تم سنتے تو ہو پہ کہیں درد نہ ہو کان کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR