میر تقی میر میر تقی میر

کس کی مسجد کیسے میخانے کہاں کے شیخ و شاب

کس کی مسجد کیسے میخانے کہاں کے شیخ و شاب ایک گردش میں تری چشم سیہ کے سب خراب تو کہاں اس کی کمر کیدھر نہ کریو اضطراب اے رگ گل دیکھیو کھاتی ہے جو تو پیچ و تاب موند رکھنا چشم کا ہستی میں عین دید ہے کچھ نہیں آتا نظر جب آنکھ کھولے ہے حباب تو ہو اور دنیا ہو ساقی میں ہوں مستی ہو مدام پر بط صہبا نکالے اڑ چلے رنگ شراب ہے ملاحت تیرے باعث شور پر تجھ سے نمک ٹک تو رہ پیری چلی آتی ہے اے عہد شباب کب تھی یہ بے جرأتی شایان آہوے حرم ذبح ہوتا تیغ سے یا آگ میں ہوتا کباب کیا ہو رنگ رفتہ کیا قاصد ہو جس کو خط دیا جز جواب صاف اس سے کب کوئی لایا جواب واے اس جینے پر اے مستی کہ دور چرخ میں جام مے پر گردش آوے اور میخانہ خراب چوب حرفی بن الف بے میں نہیں پہچانتا ہوں میں ابجد خواں شناسائی کو مجھ سے کیا حساب مت ڈھلک مژگاں سے اب تو اے سرشک آبدار مفت میں جاتی رہے گی تیری موتی کی سی آب کچھ نہیں بحرجہاں کی موج پر مت بھول میر دور سے دریا نظر آتا ہے لیکن ہے سراب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR