میر تقی میر میر تقی میر

رکھتا ہے ہم سے وعدہ ملنے کا یار ہر شب

رکھتا ہے ہم سے وعدہ ملنے کا یار ہر شب سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب مدت ہوئی کہ اب تو ہم سے جدا رکھے ہے اس آفتاب رو کو یہ روزگار ہر شب دیکھیں ہیں راہ کس کی یارب کہ اختروں کی رہتی ہیں باز آنکھیں چندیں ہزار ہر شب دھوکے ترے کسو دن میں جان دے رہوں گا کرتا ہے ماہ میرے گھر سے گذار ہر شب دل کی کدورت اپنی یک شب بیاں ہوئی تھی رہتا ہے آسماں پر تب سے غبار ہر شب کس کے لگا ہے تازہ تیر نگاہ اس کا اک آہ میرے دل کے ہوتی ہے پار ہر شب مجلس میں میں نے اپنا سوز جگر کہا تھا روتی ہے شمع تب سے بے اختیار ہر شب مایوس وصل اس کے کیا سادہ مردماں ہیں گذرے ہے میر ان کو امیدوار ہر شب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR