میر تقی میر
بیتابیوں کے جور سے میں جب کہ مر گیا
بیتابیوں کے جور سے میں جب کہ مر گیا
ہوکر فقیر صبر مری گور پر گیا
اے آہ سرد عرصۂ محشر میں یخ جما
جلتا ہوں میں سنوں کہ جہنم ٹھٹھر گیا
کاکل میں نہیّں خط میں نہیں زلف میں نہیں
روز سیہ کے ساتھ مرا دل کدھر گیا
مفلس سو مر گیا نہ ہوا وصل یار کا
ہجراں میں اس کے جی بھی گیا اور زر گیا
تیری ہی رہگذر میں یہ جی جارہا ہے شوخ
سنیو کہ میر آج ہی کل میں گذر گیا