میر تقی میر
تھا زعفراں پہ ہنسنے کو دل جس کی گرد کا
تھا زعفراں پہ ہنسنے کو دل جس کی گرد کا
مشتاق منھ مرا ہے اسی رنگ زرد کا
کیا ڈر اسے ہے گرمی خورشید حشر سے
سایہ پڑا ہے جس پہ مری آہ سرد کا