میر تقی میر
نہیں ایسا کوئی میرا جو ماتم دار ہوئے گا
نہیں ایسا کوئی میرا جو ماتم دار ہوئے گا
مگر اک غم ترا اے شوخ بے کس ہوکے روئے گا
اگر اگتے رہے اے ناامیدی داغ ایسے ہی
تو کاہے کو کوئی تخم تمنا دل میں بوئے گا
الٰہی وہ بھی دن ہو گا کہ جس میں ایک ساعت بھی
میں روئوں گا وہ اپنے ہاتھ میرے منھ کو دھوئے گا
جو ایسے شور سے روتا ہے دن کو میر تو شب کو
نہ سونے دے گا ہمسایوں کو نے یہ آپ سوئے گا