میر تقی میر
کام میرا بھی ترے غم میں کہوں ہوجائے گا
کام میرا بھی ترے غم میں کہوں ہوجائے گا
جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا
خون کم کر اب کہ کشتوں کے تو پشتے لگ گئے
قتل کرتے کرتے تیرے تیں جنوں ہوجائے گا
اس شکار انداز خونیں کا نہیں آیا مزاج
ورنہ آہوے حرم صید زبوں ہوجائے گا
بزم عشرت میں ملا مت ہم نگوں بختوں کے تیں
جوں حباب بادہ ساغر سرنگوں ہوجائے گا
تاکجا غنچہ صفت رکنا چمن میں دہر کے
کب گرفتہ دل مرے سینے میں خوں ہوجائے گا
کیا کہوں میں میر اس عاشق ستم محبوب کو
طور پر اس کے کسو دن کوئی خوں ہوجائے گا