میر تقی میر میر تقی میر

گلہ نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

گلہ نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا سمند ناز نے اس کے جہاں کیا پامال وہی ہے اب بھی اسے شوق ترک تازی کا ستم ہیں قہر ہیں لونڈے شراب خانے کے اتار لیتے ہیں عمامہ ہر نمازی کا الٹ پلٹ مری آہ سحر کی کیا ہے کم اگر خیال تمھیں ہووے نیزہ بازی کا بتائو ہم سے کوئی آن تم سے کیا بگڑی نہیں ہے تم کو سلیقہ زمانہ سازی کا خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن رہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا چلو ہو راہ موافق کہے مخالف کے طریق چھوڑ دیا تم نے دل نوازی کا کسو کی بات نے آگے مرے نہ پایا رنگ دلوں میں نقش ہے میری سخن طرازی کا بسان خاک ہو پامال راہ خلق اے میر رکھے ہے دل میں اگر قصد سرفرازی کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR