میر تقی میر
صحرا میں سیل اشک مرا جابجا پھرا
صحرا میں سیل اشک مرا جابجا پھرا
مجنوں بھی اس کی موج میں مدت بہا پھرا
طالع جو خوب تھے نہ ہوا جاہ کچھ نصیب
سر پر مرے کڑوڑ برس تک ہما پھرا
آنکھیں برنگ نقش قدم ہو گئیں سفید
نامے کے انتظار میں قاصد بھلا پھرا
ٹک بھی نہ مڑ کے میری طرف تونے کی نگاہ
اک عمر تیرے پیچھے میں ظالم لگا پھرا
دیر و حرم میں کیونکے قدم رکھ سکے گا میر
ایدھر تو اس سے بت پھرے اودھر خدا پھرا