میر تقی میر میر تقی میر

خط منھ پہ آئے جاناں خوبی پہ جان دے گا

خط منھ پہ آئے جاناں خوبی پہ جان دے گا ناچار عاشقوں کو رخصت کے پان دے گا سارے رئیس اعضا ہیں معرض تلف میں یہ عشق بے محابا کس کو امان دے گا پاے پر آبلہ سے میں گم شدہ گیا ہوں ہر خار بادیے کا میرا نشان دے گا داغ اور سینے میں کچھ بگڑی ہے عشق دیکھیں دل کو جگر کو کس کو اب درمیان دے گا نالہ ہمارا ہر شب گذرے ہے آسماں سے فریاد پر ہماری کس دن تو کان دے گا مت رغم سے ہمارے پیارے حنا لگائو پابوس پر تمھارے سر سو جوان دے گا ہوجو نشانہ اس کا اے بوالہوس سمجھ کر تیروں کے مارے سارے سینے کو چھان دے گا اس برہمن پسر کے قشقے پہ مرتے ہیں ہم ٹک دے گا رو تو گویا جی ہم کو دان دے گا گھر چشم کا ڈبو مت دل کے گئے پہ رو رو کیا میر ہاتھ سے تو یہ بھی مکان دے گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR