میر تقی میر میر تقی میر

کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا

کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا کون سے درد و ستم کا یہ طرفدار نہ تھا آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہ آئینہ تھا یہ ولے قابل دیدار نہ تھا دھوپ میں جلتی ہیں غربت وطنوں کی لاشیں تیرے کوچے میں مگر سایۂ دیوار نہ تھا صد گلستاں تہ یک بال تھے اس کے جب تک طائر جاں قفس تن کا گرفتار نہ تھا حیف سمجھا ہی نہ وہ قاتل ناداں ورنہ بے گنہ مارنے قابل یہ گنہگار نہ تھا عشق کا جذب ہوا باعث سودا ورنہ یوسف مصر زلیخا کا خریدار نہ تھا نرم تر موم سے بھی ہم کو کوئی دیتی قضا سنگ چھاتی کا تو یہ دل ہمیں درکار نہ تھا رات حیران ہوں کچھ چپ ہی مجھے لگ گئی میر درد پنہاں تھے بہت پر لب اظہار نہ تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR