میر تقی میر میر تقی میر

واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا

واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا یاں شرم سے عرق میں ڈوب آفتاب نکلا آیا جو واقعے میں درپیش عالم مرگ یہ جاگنا ہمارا دیکھا تو خواب نکلا دیکھا جو اوس پڑتے گلشن میں ہم تو آخر گل کا وہ روے خنداں چشم پرآب نکلا پردے ہی میں چلا جا خورشید تو ہے بہتر اک حشر ہے جو گھر سے وہ بے حجاب نکلا کچھ دیر ہی لگی نہ دل کو تو تیر لگتے اس صید ناتواں کا کیا جی شتاب نکلا ہر حرف غم نے میرے مجلس کے تیں رلایا گویا غبار دل کا پڑھتا کتاب نکلا روے عرق فشاں کو بس پونچھ گرم مت ہو اس گل میں کیا رہے گا جس کا گلاب نکلا مطلق نہ اعتنا کی احوال پر ہمارے نامے کا نامے ہی میں سب پیچ و تاب نکلا شان تغافل اپنے نوخط کی کیا لکھیں ہم قاصد موا تب اس کے منھ سے جواب نکلا کس کی نگہ کی گردش تھی میر رو بہ مسجد محراب میں سے زاہد مست و خراب نکلا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR