میر تقی میر میر تقی میر

دیر و حرم سے گذرے اب دل ہے گھر ہمارا

دیر و حرم سے گذرے اب دل ہے گھر ہمارا ہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا پلکوں سے تیری ہم کو کیا چشم داشت یہ تھی ان برچھیوں نے بانٹا باہم جگر ہمارا دنیا و دیں کی جانب میلان ہو تو کہیے کیا جانیے کہ اس بن دل ہے کدھر ہمارا ہیں تیرے آئینے کی تمثال ہم نہ پوچھو اس دشت میں نہیں ہے پیدا اثر ہمارا جوں صبح اب کہاں ہے طول سخن کی فرصت قصہ ہی کوئی دم کو ہے مختصر ہمارا کوچے میں اس کے جاکر بنتا نہیں پھر آنا خون ایک دن گرے گا اس خاک پر ہمارا ہے تیرہ روز اپنا لڑکوں کی دوستی سے اس دن ہی کو کہے تھا اکثر پدر ہمارا سیلاب ہر طرف سے آئیں گے بادیے میں جوں ابر روتے ہو گا جس دم گذر ہمارا نشوونما ہے اپنی جوں گردباد انوکھی بالیدہ خاک رہ سے ہے یہ شجر ہمارا یوں دور سے کھڑے ہو کیا معتبر ہے رونا دامن سے باندھ دامن اے ابرتر ہمارا جب پاس رات رہنا آتا ہے یاد اس کا تھمتا نہیں ہے رونا دو دو پہر ہمارا اس کارواں سرا میں کیا میر بار کھولیں یاں کوچ لگ رہا ہے شام و سحر ہمارا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR