میر تقی میر میر تقی میر

دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا

دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا لے یار مرے سلمہ اللہ تعالیٰ کچھ میں نہیں اس دل کی پریشانی کا باعث برہم ہی مرے ہاتھ لگا تھا یہ رسالا معمور شرابوں سے کبابوں سے ہے سب دیر مسجد میں ہے کیا شیخ پیالہ نہ نوالا گذرے ہے لہو واں سر ہر خار سے اب تک جس دشت میں پھوٹا ہے مرے پائوں کا چھالا گر قصد ادھر کا ہے تو ٹک دیکھ کے آنا یہ دیر ہے زہاد نہ ہو خانۂ خالا جس گھر میں ترے جلوے سے ہو چاندنی کا فرش واں چادر مہتاب ہے مکڑی کا سا جالا دشمن نہ کدورت سے مرے سامنے ہو جو تلوار کے لڑنے کو مرے کیجو حوالا ناموس مجھے صافی طینت کی ہے ورنہ رستم نے مری تیغ کا حملہ نہ سنبھالا دیکھے ہے مجھے دیدۂ پرخشم سے وہ میر میرے ہی نصیبوں میں تھا یہ زہر کا پیالا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR