میر تقی میر میر تقی میر

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا اس آئینے کے مانند زنگار جس کو کھاوے کام اپنا اس کے غم میں دیدار تک نہ پہنچا جوں نقش پا ہے غربت حیران کار اس کی آوارہ ہو وطن سے جو یار تک نہ پہنچا لبریز شکوہ تھے ہم لیکن حضور تیرے کار شکایت اپنا گفتار تک نہ پہنچا لے چشم نم رسیدہ پانی چوانے کوئی وقت اخیر اس کے بیمار تک نہ پہنچا یہ بخت سبز دیکھو باغ زمانہ میں سے پژمردہ گل بھی اپنی دستار تک نہ پہنچا مستوری خوبروئی دونوں نہ جمع ہوویں خوبی کا کام کس کی اظہار تک نہ پہنچا یوسف سے لے کے تاگل پھر گل سے لے کے تا شمع یہ حسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا افسوس میر وے جو ہونے شہید آئے پھر کام ان کا اس کی تلوار تک نہ پہنچا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR