میر تقی میر میر تقی میر

ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا

ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا دس دن جو ہے یہ مہلت سو یاں دہا رہے گا برقع اٹھے پہ اس کے ہو گا جہان روشن خورشید کا نکلنا کیونکر چھپا رہے گا اک وہم سی رہی ہے اپنی نمود تن میں آتے ہو اب تو آئو پھر ہم میں کیا رہے گا مذکور یار ہم سے مت ہم نشیں کیا کر دل جو بجا نہیں ہے پھر اس میں جا رہے گا اس گل بغیر جیسے ابر بہار عاشق نالاں جدا رہے گا روتا جدا رہے گا دانستہ ہے تغافل غم کہنا اس سے حاصل تم درد دل کہو گے وہ سر جھکا رہے گا اب جھمکی اس کی تم نے دیکھی کبھو جو یارو برسوں تلک اسی میں پھر دل سدا رہے گا کس کس کو میر ان نے کہہ کر دیا ہے بوسہ وہ ایک ہے مفتن یوں ہی چُما رہے گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR