میر تقی میر
یہ حسرت ہے مروں اس میں لیے لبریز پیمانا
یہ حسرت ہے مروں اس میں لیے لبریز پیمانا
مہکتا ہو نپٹ جو پھول سی دارو سے میخانا
نہ وے زنجیر کے غل ہیں نہ وے جرگے غزالوں کے
مرے دیوان پن تک ہی رہا معمور ویرانا
مرا سر نزع میں زانو پہ رکھ کر یوں لگا کہنے
کہ اے بیمار میرے تجھ پہ جلد آساں ہو مرجانا
نہ ہو کیوں ریختہ بے شورش و کیفیت و معنی
گیا ہو میر دیوانہ رہا سوداؔ سو مستانا