میر تقی میر میر تقی میر

کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا

کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا جیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا یاں ہجر اور ہم میں بگڑی ہے کب کی صحبت زخم دل و نمک میں کب تک مزہ رہے گا تو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ رہے ہے جی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہی آیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا غافل نہ رہیو ہرگز نادان داغ دل سے بھڑکے گا جب یہ شعلہ تب گھر جلا رہے گا مرنے پہ اپنے مت جا سالک طلب میں اس کی گو سر کو کھورہے گا پر اس کو پا رہے گا عمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گذری بیمار عاشقی یہ کس دن بھلا رہے گا دیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کر بیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا کیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہے قید حیات میں ہے تو میر آرہے گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR