میر تقی میر میر تقی میر

موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا

موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا جنوں میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے پہ حیف خبر لی جب کہ نہ جامے میں ایک تار رہا بشر ہے وہ پہ کھلا جب سے اس کا دام زلف سر رہ اس کے فرشتے ہی کا شکار رہا کبھو نہ آنکھوں میں آیا وہ شوخ خواب کی طرح تمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا شراب عیش میسر ہوئی جسے اک شب پھر اس کو روز قیامت تلک خمار رہا بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا وہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا وہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھا وہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا تمام عمر گئی اس پہ ہاتھ رکھتے ہمیں وہ دردناک علی الرغم بے قرار رہا ستم میں غم میں سر انجام اس کا کیا کہیے ہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا بہا تو خون ہو آنکھوں کی راہ بہ نکلا رہا جو سینۂ سوزاں میں داغ دار رہا سو اس کو ہم سے فراموش کاریوں لے گئے کہ اس سے قطرئہ خوں بھی نہ یادگار رہا گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھر میں میر میر کر اس کو بہت پکار رہا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR