میر تقی میر میر تقی میر

غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا

غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا ان نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بار میں نے اسے ہزار جتایا تو کیا ہوا خواہاں نہیں وہ کیوں ہی میں اپنی طرف سے یوں دل دے کے اس کے ہاتھ بکایا تو کیا ہوا اب سعی کر سپہر کہ میرے موئے گئے اس کا مزاج مہر پہ آیا تو کیا ہوا مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا میں صید ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یاد ظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا کیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوں ظاہر جہاں سے ہاتھ اٹھایا تو کیا ہوا وہ فکر کر کہ چاک جگر پاوے التیام ناصح جو تونے جامہ سلایا تو کیا ہوا جیتے تو میر ان نے مجھے داغ ہی رکھا پھر گور پر چراغ جلایا تو کیا ہوا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR