میر تقی میر میر تقی میر

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یار سر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا ہم رہرو ان راہ فنا ہیں برنگ عمر جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا اپنے شہید ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھر دیوان حشر میں اسے لایا نہ جائے گا اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا ہم بے خودان محفل تصویر اب گئے آئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہکن سنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کر پر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR