میر تقی میر میر تقی میر

رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا

رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا نہیں ستارے یہ سوراخ پڑ گئے ہیں تمام فلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا گلی میں اس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جا لباس فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا تمام زلف کے کوچے ہیں مارپیچ اس کی تجھی کو آوے دلا چلنا ایسی راہوں کا اسی جو خوبی سے لائے تجھے قیامت میں تو حرف کن نے کیا گوش داد خواہوں کا تمام عمر رہیں خاک زیر پا اس کی جو زور کچھ چلے ہم عجز دست گاہوں کا کہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمان حال کہ پوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا حساب کاہے کا روز شمار میں مجھ سے شمار ہی نہیں ہے کچھ مرے گناہوں کا تری جو آنکھیں ہیں تلوار کے تلے بھی ادھر فریب خوردہ ہے تو میر کن نگاہوں کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR