میر تقی میر میر تقی میر

دل سمجھا نہ محبت کو کچھ ان نے کیا یہ خیال کیا

دل سمجھا نہ محبت کو کچھ ان نے کیا یہ خیال کیا خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا آنکھیں کفک سے اس کی لگاکر خاک برابر ہم بھی ہوئے مہندی کے رنگ ان پائوں نے تو بہتوں کو پامال کیا یوں نکلے ہے فلک ایدھر سے نازکناں جو جاتے تو خاک سے سبزہ میری اگاکر ان نے مجھ کو نہال کیا آگے جواب سے ان لوگوں کے بارے معافی اپنی ہوئی ہم بھی فقیر ہوئے تھے لیکن ہم نے ترک سوال کیا حال نہیں ہے عشق سے مجھ میں کس سے میر ؔاب حال کہوں آپھی چاہ کر اس ظالم کو یہ اپنا میں حال کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR