میر تقی میر میر تقی میر

سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا

سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا بوے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میر کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR