میر تقی میر میر تقی میر

مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا

مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا اس گل زمیں سے اب تک اگتے ہیں سرو مائل مستی میں جھکتے جس پر تیرا پڑا ہے سایا یکساں ہے قتل گہ اور اس کی گلی تو مجھ کو واں خاک میں میں لوٹا یاں لوہو میں نہایا پوجے سے اور پتھر ہوتے ہیں یہ صنم تو اب کس طرح اطاعت ان کی کروں خدایا تا چرخ نالہ پہنچا لیکن اثر نہ دیکھا کرنے سے اب دعا کے میں ہاتھ ہی اٹھایا تیرا ہی منھ تکے ہے کیا جانیے کہ نوخط کیا باغ سبز تونے آئینے کو دکھایا شادابی و لطافت ہرگز ہوئی نہ اس میں تیری مسوں پہ گرچہ سبزے نے زہر کھایا آخر کو مر گئے ہیں اس کی ہی جستجو میں جی کے تئیں بھی کھویا لیکن اسے نہ پایا لگتی نہیں ہے دارو ہیں سب طبیب حیراں اک روگ میں بساہا جی کو کہاں لگایا کہہ ہیچ اس کے منھ کو جی میں ڈرا یہاں تو بارے وہ شوخ اپنی خاطر میں کچھ نہ لایا ہونا تھا مجلس آرا گر غیر کا تجھے تو مانند شمع مجھ کو کاہے کے تیں جلایا تھی یہ کہاں کی یاری آئینہ رو کہ تونے دیکھا جو میر کو تو بے ہیچ منھ بنایا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR