میر تقی میر میر تقی میر

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا گل اک چمن میں دیدئہ بے نور ہو گیا اک چشم منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہ جوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تب دروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا پہنچا قریب مرگ کے وہ صید ناقبول جو تیری صیدگاہ سے ٹک دور ہو گیا دیکھا یہ ناونوش کہ نیش فراق سے سینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا اس ماہ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہ اب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا شاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹ میری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا لاشہ مرا تسلی نہ زیر زمیں ہوا جب تک نہ آن کر وہ سر گور ہو گیا دیکھا جو میں نے یار تو وہ میر ہی نہیں تیرے غم فراق میں رنجور ہو گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR