میر تقی میر میر تقی میر

بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا

بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے تیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو ہے خیر میر صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR