میر تقی میر میر تقی میر

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا پیدا ہر ایک نالے سے شورنشور تھا پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا کل پائوں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR