میر تقی میر میر تقی میر

نہ گلشن میں چمن پر ان نے بلبل تجھ کو جا دی ہے

نہ گلشن میں چمن پر ان نے بلبل تجھ کو جا دی ہے سپاس ایزد کے کرجن نے کہ یہ ڈالی نوادی ہے نہیں ٹک بیٹھنے دیتے تم اپنی بزم میں ہم کو مروت رسم تھی مدت کی سو تم نے اٹھا دی ہے رہائی چنگل باز فلک سے مجھ کو مشکل تھی مری یہ بند چڑیا کی سی مولا نے چھڑا دی ہے گلی میں اپنی قدغن کر رکھو آنے نہ پائوں میں کہیں کیا اور بھی دل کے لگانے کی منادی ہے طپش سے رنگ اڑا جاوے قلق سے جان گھبراوے دیا ہے دل الٰہی ہم کو یا کوئی بلا دی ہے درگلزار پیش از صبح وا اے باغباں مت کر اڑا لیتی ہے مٹی بھی صبا اک چور بادی ہے کوئی صورت نہیں اس گھر سے اب تیرے نکلنے کی قیامت کی ہے جن نے آرسی تجھ کو دکھا دی ہے مجھے منظور کیا ہے زلف و خال و خط خوباں سے خدا نے دیکھنے کی لت سی آنکھوں کو لگا دی ہے کجی ذہن اس وادی میں گمراہی کی ہے باعث سلیم الطبع کو تو پائوں کا ہر نقش ہادی ہے لگا رہتا ہے سینے ہی سے بیٹھا ہوں کہ سوتا ہوں غرض چھاتی مری داغ جدائی نے جلا دی ہے نہ چھوٹا دل میں کچھ اس کے گئے پر غارت غم سے ہزار افسوس کیا بستی محبت نے لٹا دی ہے نہ کٹتی ٹک نہ ہوتی گر فقیری ساتھ الفت کے ہمیں جب ان نے گالی دی ہے تب ہم نے دعا دی ہے ہوئی ہے دل کی محویت سے یکساں یاں غم و فرحت نہ ماتم مرنے کا ہے میر نے جینے کی شادی ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR