میر تقی میر میر تقی میر

باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے

باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے جو بے کلی ہے ایسی چاہت گلوں کی اتنی کیا جانے ہم صفیرو تو اب کے سال کیا ہے پہنچا بہم علاقہ اے عزلتی کسو سے کرنا معاش اکیلے اتنا کمال کیا ہے آغاز تو یہ ہے کچھ روتے ہیں خون ہر دم کیا جانے عاشقی کا یارو مآل کیا ہے پامال راہ اس کے کیا کیا عزیز دیکھے آئی نہ جب سمجھ میں گردوں کی چال کیا ہے وہ سیم تن ہو ننگا تو لطف تن پر اس کے سوجی گئے تھے صدقے اک جان و مال کیا ہے سرگرم جلوہ اس کو دیکھے کوئی سو جانے طرز خرام کیا ہے حسن و جمال کیا ہے میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کے ہر دم صدا یہی تھی دے گذرو ٹال کیا ہے پر چپ ہی لگ گئی جب ان نے کہا کہ کوئی پوچھو تو شاہ جی سے ان کا سوال کیا ہے گہ آپ میں نہیں ہو گہ منتظر کہیں ہو کچھ میرجی تمھارا ان روزوں حال کیا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR