میر تقی میر میر تقی میر

کس غم میں مجھ کو یارب یہ مبتلا کیا ہے

کس غم میں مجھ کو یارب یہ مبتلا کیا ہے دل ساری رات جیسے کوئی ملا کیا ہے ان چار دن سے ہوں میں افسردہ کچھ وگرنہ پھوڑا سا دل بغل میں برسوں جلا کیا ہے اس گل کی اور اپنا تب منھ کیا ہے میں نے جب آشنا لبوں سے صلِّ علیٰ کیا ہے دل داغ کب نہ دیکھا جی بار کب نہ پایا کیا کیا نہال خواہش پھولا پھلا کیا ہے تڑپا ہے ایسا ایسا جو غش رہا ہے مجھ کو دل اک بغل میں جی کا دشمن پلا کیا ہے کیا خاک میں ہمیں کو ان نے نیا ملایا ٹیڑھی ہی چال گردوں اکثر چلا کیا ہے چلتا نہیں ہے دل پر کچھ اس کے بس وگرنہ عرش آہ عاجزاں سے اکثر ہلا کیا ہے ہم گو نہ ہوں جہاں میں آخر جہاں تو ہو گا تونے بدی تو کی ہے ظالم بھلا کیا ہے ہے منھ پہ میر کے کیا گرد ملال تازہ یہ خاک میں ہمیشہ یوں ہی رلا کیا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR