میر تقی میر میر تقی میر

دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے

دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے یہ قیامت اور جی پر کل گئی پائیز میں دل خس و خاشاک گلشن سے لگایا چاہیے خانہ ساز دیں جو ہے واعظ سو یہ خانہ خراب اینٹ کی خاطر جسے مسجد کو ڈھایا چاہیے کام کیا بال ہما سے چترشہ سے کیا غرض سر پر اک دیوار ہی کا اس کی سایہ چاہیے اتقا پر خانقہ والے بہت مغرور ہیں مست ناز ایدھر اسے یک بار لایا چاہیے کیاریوں ہی میں پڑے رہیے گا سائے کی روش اپنے ہوتے اب کے موسم گل کا آیا چاہیے یہ ستم تازہ کہ اپنی ناکسی پر کر نظر جن سے بگڑا چاہیے ان سے بنایا چاہیے جی نہیں رہتا ہے ٹک ناچار ہم کو اس کی اور گرتے پڑتے ضعف میں بھی روز جایا چاہیے گاہ برقع پوش ہو گہ مو پراگندہ کرو تم کو ہم سے منھ بہر صورت چھپایا چاہیے وہ بھی تو ٹک دست و تیغ اپنے کی جانے قدر میر زخم سارے ایک دن اس کو دکھایا چاہیے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR