میر تقی میر میر تقی میر

ہم نہ کہتے تھے رہے گا ہم میں کیا یاں سے گئے

ہم نہ کہتے تھے رہے گا ہم میں کیا یاں سے گئے سو ہی بات آئی اٹھے اس پاس سے جاں سے گئے کیا بخود رہنا ہمارا کچھ رکھے ہے اعتبار آپ میں آئے کبھو اب ہم تو مہماں سے گئے جب تلک رہنا بنا دل تنگ غنچے سے رہے دیکھیے کیا گل کھلے گا اب گلستاں سے گئے کیا غزالوں ہی کو ہم بن وحشت بسیار ہے کوہ بھی نالاں رہے جب ہم بیاباں سے گئے لائی آفت خانقاہ و مسجد اوپر وہ نگاہ صوفیاں دیں سے گئے سب شیخ ایماں سے گئے دور کر خط کو کیا چہرہ کتابی ان نے صاف اب قیامت ہے کہ سارے حرف قرآں سے گئے جی تو اس کی زلف میں دل کا کل پیچاں میں میر جا بھی نکلے اس کنے تو ہم پریشاں سے گئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR