میر تقی میر میر تقی میر

گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے

گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے کیسے کیسے ہائے اپنے دیکھتے موسم گئے ہنستے رہتے تھے جو اس گلزار میں شام و سحر دیدئہ تر ساتھ لے وے لوگ جوں شبنم گئے گر ہوا اس باغ کی ہے یہ تو اے بلبل نہ پھول کوئی دن میں دیکھیو واں وے گئے یاں ہم گئے کیا کم اس خورشیدرو کی جستجو یاروں نے کی لوہو روتے جوں شفق پورب گئے پچھم گئے جی گیا یاں بے دماغی سے انھوں کی اور واں نے جبیں سے چیں گئی نے ابروئوں سے خم گئے شاید اب ٹکڑوں نے دل کے قصد آنکھوں کا کیا کچھ سبب تو ہے جو آنسو آتے آتے تھم گئے گرچہ ہستی سے عدم تک اک مسافت تھی بعید پر اٹھے جو ہم یہاں سے واں تلک اک دم گئے کیا معاش اس غم کدے میں ہم نے دس دن کی بہم اٹھ کے جس کے ہاں گئے دل کا لیے ماتم گئے سبزہ و گل خوش نشینی اس چمن کی جن کو تھی سو بھی تو دیکھا گریباں چاک و مژگاں نم گئے مردم دنیا بھی ہوتے ہیں سمجھ کس مرتبہ آن بیٹھے نائوں کو تو یاں نگیں سے جم گئے ربط صاحب خانہ سے مطلق بہم پہنچا نہ میر مدتوں سے ہم حرم میں تھے پہ نامحرم گئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR