میر تقی میر میر تقی میر

ہے جنبش لب مشکل جب آن کے وہ بیٹھے

ہے جنبش لب مشکل جب آن کے وہ بیٹھے جو چاہیں سو یوں کہہ لیں لوگ اپنی جگہ بیٹھے جی ڈوب گئے اپنے اندوہ کے دریا میں وے جوش کہاں اب ہم مدت ہوئی وہ بیٹھے کیا رنگ میں شوخی ہے اس کے تن نازک کی پیراہن اگر پہنے تو اس پہ بھی تہ بیٹھے سر گل نے اٹھایا تھا اس باغ میں سو دیکھا کیا ناز سے یاں کوئی کج کرکے کلہ بیٹھے مرتے ہوئے پر چاہت ظاہر نہ کی اگلوں نے بے حوصلہ تھے ہم جو اس راز کو کہہ بیٹھے کیا جانے کہ ایدھر کا کب قصد کرے گا وہ پامال ہوئے ہم تو اس سے سررہ بیٹھے جو ہاتھ چڑھا اس کے دل خوں ہی کیا اس کا اس پنجۂ رنگیں کی اے میر نہ گہ بیٹھے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR