میر تقی میر میر تقی میر

اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے

اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے اس خصم جاں کے در پر تکیہ بنا کے بیٹھے مرتے ہوئے بھی ہم کو صورت نہ آ دکھائی وقت اخیر اچھا منھ کو چھپا کے بیٹھے عزلت نشیں ہوئے جب دل داغ ہو گیا تب یعنی کہ عاشقی میں ہم گھر جلا کے بیٹھے جو کفر جانتے تھے عشق بتاں کو وہ ہی مسجد کے آگے آخر قشقہ لگا کے بیٹھے شور متاع خوبی اس شوخ کا بلا تھا بازاری سب دکانیں اپنی بڑھا کے بیٹھے کیا اپنی اور اس کی اب نقل کریے صحبت مجلس سے اٹھ گیا وہ ٹک ہم جو آ کے بیٹھے کیا جانے تیغ اس کی کب ہو بلند عاشق یوں چاہیے کہ سر کو ہر دم جھکا کے بیٹھے پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھے مسند پہ ناز کی جو تیوری چڑھا کے بیٹھے کیا غم اسے زمیں پر بے برگ و ساز کوئی خار و خسک ہی کیوں نہ برسوں بچھا کے بیٹھے وادی قیس سے پھر آئے نہ میر صاحب مرشد کے ڈھیر پر وے شاید کہ جا کے بیٹھے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR