میر تقی میر میر تقی میر

مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے

مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے یہ جان سے گئے سب بیمار ایسے ہی تھے شمس و قمر کے دیکھے جی اس میں جا رہے ہے اس دل فروز کے بھی رخسار ایسے ہی تھے دامن کے پاٹ سارے تختے ہوئے چمن کے بس اے سرشک خونیں درکار ایسے ہی تھے لوہو نہ کیوں رلائے ان کا گداز ہونا یہ دل جگر ہمارے غم خوار ایسے ہی تھے ہر دم جراحت آسا کب رہتے تھے ٹپکتے یہ دیدئہ نمیں کیا خوں بار ایسے ہی تھے آزاردہ دلوں کا جیسا کہ تو ہے ظالم اگلے زمانے میں بھی کیا یار ایسے ہی تھے ہو جائے کیوں نہ دوزخ باغ زمانہ ہم پر ہم بے حقیقتوں کے کردار ایسے ہی تھے دیوار سے پٹک سر میں جو موا تو بولا کچھ اس ستم زدہ کے آثار ایسے ہی تھے اک حرف کا بھی ان کو دفتر ہے کر دکھانا کیا کہیے میر جی کے بستار ایسے ہی تھے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR