میر تقی میر میر تقی میر

یک عمر دیدہ ہاے ستم دیدہ تر رہے

یک عمر دیدہ ہاے ستم دیدہ تر رہے آخر کو پھوٹ پھوٹ بہے قہر کر رہے ہم نے بھی نذر کی ہے پھریں گے چمن کے گرد آنے تئیں بہار کے گر بال و پر رہے کیا کہیے تیرے واسطے اے مایۂ حیات کیا کیا عزیز اپنے تئیں مار مر رہے مرتے بھی اپنے ہائے وہ حاضر نہ ہوسکا ہم اشتیاق کش تو بہت محتضر رہے مرغان باغ رہتے ہیں اب گھیرے یوں مجھے ماتم زدوں کے حلقے میں جوں نوحہ گر رہے آغوش اس سے خالی رہی شب تو تا سحر جیب و کنار گریۂ خونیں سے بھر رہے نقش قدم کے طور ترے ہم ہیں پائمال غالب ہے یہ کہ دیر ہمارا اثر رہے اب صبر و ہوش و عقل کی میرے یہ ہے معاش جوں قافلہ لٹا کہیں آکر اتر رہے لاکھوں ہمارے دیکھتے گھر بار سے گئے کس خانماں خراب کے وے جا کے گھر رہے آتا کبھو تو ناز سے دکھلائی دے بھی جا دروازے ہی کی اور کہاں تک نظر رہے رکھنا تمھارے پائوں کا کھوتا ہے سر سے ہوش یہ چال ہے تو اپنی کسے پھر خبر رہے کیا بدبلا ہے لاگ بھی دل کی کہ میر جی دامن سوار لڑکوں کے ہو کر نفر رہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR