میر تقی میر میر تقی میر

اس شوخ ستمگر کو کیا کوئی بھلا چاہے

اس شوخ ستمگر کو کیا کوئی بھلا چاہے جو چاہنے والے کا ہر طور برا چاہے کعبے گئے کیا کوئی مقصد کو پہنچتا ہے کیا سعی سے ہوتا ہے جب تک نہ خدا چاہے سو رنگ کی جب خوبی پاتے ہو اسی گل میں پھر اس سے کوئی اس بن کچھ چاہے تو کیا چاہے ہم عجز سے پہنچے ہیں مقصود کی منزل کو گہ خاک میں مل جاوے جو اس سے ملا چاہے ہوسکتی ہیں سد رہ پلکیں کہیں رونے کی تنکوں سے رکے ہے کب دریا جو بہا چاہے جب تونے زباں چھوڑی تب کاہے کا صرفہ ہے بے صرفہ کہے کیوں نہ جو کچھ کہ کہا چاہے دل جاوے ہے جوں رو کے شبنم نے کہا گل سے اب ہم تو چلے یاں سے رہ تو جو رہا چاہے خط رسم زمانہ تھی ہم نے بھی لکھا اس کو تہ دل کی لکھے کیونکر عاشق جو لکھا چاہے رنگ گل و بوے گل ہوتے ہیں ہوا دونوں کیا قافلہ جاتا ہے جو تو بھی چلا چاہے ہم میر ترا مرنا کیا چاہتے تھے لیکن رہتا ہے ہوئے بن کب جو کچھ کہ ہوا چاہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR