میر تقی میر میر تقی میر

درونے کو کوئی آہوں سے یوں کب تک ہوا دیوے

درونے کو کوئی آہوں سے یوں کب تک ہوا دیوے مبادا عشق کی گرمی جگر میرا جلا دیوے کہاں تک یوں پڑے بستر پہ رہیے دور جاناں سے کوئی کاش اس گلی میں ہم کو اک تکیہ بنا دیوے ہوئے برسوں کہ وہ ظالم رہے ہے مجھ پہ کچھ ٹیڑھا کوئی اس تیغ برکف کو گلے میرے ملا دیوے وفا کی مزد میں ہم پر جفا و جور کیا کہیے کسو سے دل لگے اس کا تو وہ اس کی جزا دیوے کہیں کچھ تو برا مانو بھلا انصاف تو کریے بدی کو بھی نہایت ہے تمھیں نیکی خدا دیوے صنوبر آدمی ہو تو سراپا بار دل لاوے کہاں سے کوئی تازہ دل اسے ہر روز لا دیوے بہت گمراہ ہے وہ شوخ لگتا ہے کہے کس کے کوئی کیا راہ کی بات اس جفاجو کو بتا دیوے جگر سب جل گیا لیکن زباں ہلتی نہیں اپنی مباد اس آتشیں خو کو مخالف کچھ لگا دیوے کوئی بھی میر سے دل ریش سے یوں دور پھرتا ہے ٹک اس درویش سے مل چل کہ تجھ کو کچھ دعا دیوے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR