میر تقی میر میر تقی میر

بے مہر و وفا ہے وہ کیا رسم وفا جانے

بے مہر و وفا ہے وہ کیا رسم وفا جانے الفت سے محبت سے مل بیٹھنا کیا جانے دل دھڑکے ہے جاتے کچھ بت خانے سے کعبے کو اس راہ میں پیش آوے کیا ہم کو خدا جانے ہے محو رخ اپنا تو آئینے میں ہر ساعت صورت ہے جو کچھ دل کی سو تیری بلا جانے کچھ اس کی بندھی مٹھی اس باغ میں گذرے ہے جو زخم جگر اپنے جوں غنچہ چھپا جانے کیا سینے کے جلنے کو ہنس ہنس کے اڑاتا ہوں جب آگ کوئی گھر کو اس طور لگا جانے میں مٹی بھی لے جائوں دروازے کی اس کے تو اس درد محبت کی جو کوئی دوا جانے اپنے تئیں بھی کھانا خالی نہیں لذت سے کیا جانے ہوس پیشہ چکھے تو مزہ جانے یوں شہر میں بہتیرے آزاردہندے ہیں تب جانیے جب کوئی اس ڈھب سے ستا جانے کیا جانوں رکھو روزے یا دارو پیو شب کو کردار وہی اچھا تو جس کو بھلا جانے آگاہ نہیں انساں اے میر نوشتے سے کیا چاہیے ہے پھر جو طالع کا لکھا جانے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR