میر تقی میر میر تقی میر

جیسے اندوہ محرم عشق کب تک دل ملے

جیسے اندوہ محرم عشق کب تک دل ملے عید سی ہوجائے اپنے ہاں لگے جو تو گلے دین و مذہب عاشقوں کا قابل پرسش نہیں یہ ادھر سجدہ کریں ابرو جدھر اس کی ہلے یہ نہیں میں جانتا نسبت ہے کیا آپس میں لیک آنکھیں ہوجاتی ہیں ٹھنڈی اس کے تلووں سے ملے ہائے کس حسرت سے شبنم نے سحر رو کر کہا خوش رہو اے ساکنان باغ اب تو ہم چلے مردمان شہر خوبی پر کریں کیا دل کو عرض ایسی جنس ناروا کو مفت کوئی واں نہ لے کل جو ہم کو یاد آیا باغ میں قد یار کا خوب روئے ہر نہال سبز کے سائے تلے جمع کر خاطر مرے جینے سے مجھ کو خوب ہے جی بچا تب جانیے جب سر سے یہ کلول ٹلے گرچہ سب ہیں گے مہیاے طریق نیستی طے بہت دشوار کی یہ رہگذر ہم نے ولے ہر قدم پر جی سے جانا ہر دم اوپر بے دمی لمحہ لمحہ آگے تھے کیا کیا قیامت مرحلے جلنے کو جلتے ہیں سب کے اندرونے لیک میر جب کسو کی اس وتیرے سے کہیں چھاتی جلے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR