میر تقی میر میر تقی میر

اس باغ بے ثبات میں کیا دل صبا لگے

اس باغ بے ثبات میں کیا دل صبا لگے کیا کیا نہال دیکھتے یاں پائوں آ لگے حرص و ہوس سے باز رہے دل تو خوب ہے ہے قہر اس کلی کے تئیں گر ہوا لگے تلخ اب تو اپنے جی کو بھی لگتی ہے اس نمط جیسے کسو کے زخم پہ تیر اک دو آ لگے کس کو خبر ہے کشتی تباہوں کے حال کی تختہ مگر کنارے کوئی بہ کے جا لگے ایسے لگے پھرے ہیں بہت سائے کی روش جانے دے ایسی حور پری سے بلا لگے وہ بھی چمن فروز تو بلبل ہے سامنے گل ایسے منھ کے آگے بھلا کیا بھلا لگے پس جائیں یار آنکھ تری سرمگیں پڑے دل خوں ہو تیرے پائوں میں بھر کر حنا لگے بن ہڈیوں ہماری ہما کچھ نہ کھائے گا ٹک چاشنی عشق کا اس کو مزہ لگے خط مت رکھو کہ اس میں بہت ہیں قباحتیں رکھیے تمھارے منھ پہ تو تم کو برا لگے مقصود کے خیال میں بہتوں نے چھانی خاک عالم تمام وہم ہے یاں ہاتھ کیا لگے سب چاہتے ہیں دیر رہے میر دل زدہ یارب کسو تو دوست کی اس کو دعا لگے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR