میر تقی میر میر تقی میر

دل خوں ہوا ہمارا ٹکڑے ہوئے جگر کے

دل خوں ہوا ہمارا ٹکڑے ہوئے جگر کے دیکھا نہ تم نے ایدھر صرفے سے اک نظر کے چشمے کہیں ہیں جوشاں جوئیں کہیں ہیں جاری آثار اب تلک ہیں یاروں کی چشم تر کے رہنے کی اپنے جا تو نے دیر ہے نہ کعبہ اٹھیے جو اس کے در سے تو ہوجیے کدھر کے اس شعر و شاعری پر اچھی بندھی نہ ہم سے محوخیال شاعر یوں ہی ہیں اس کمر کے دنیا میں ہے بسیرا یارو سرائے کا سا یہ رہروان ہستی عازم ہیں سب سفر کے وے یہ ہی چھاتیاں ہیں زخموں سے جو بھری ہیں کیا ہے جو بوالہوس نے دوچار کھائے چرکے تہ بے خودی کی اپنی کیا کچھ ورے دھری ہے ہم بے خبر ہوئے ہیں پہنچے کسو خبر کے اس آستاں کی دوری اس دل کی ناصبوری کیا کہیے آہ غم سے گھر کے ہوئے نہ در کے خاک ایسی عاشقی میں ٹھکرائے بھی گئے کل پائوں کنے سے اس کے پر میر جی نہ سرکے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR