میر تقی میر میر تقی میر

خوبی کی اپنی جنت کیسی ہی ڈینگیں ہانکے

خوبی کی اپنی جنت کیسی ہی ڈینگیں ہانکے اس کی گلی کا ساکن ہرگز ادھر نہ جھانکے ایک ایک بات اوپر ہیں پیچ و تاب سو سو رہتے نہیں ہیں سیدھے یہ لونڈے ٹیڑھے بانکے سر کو اس آستاں پر رکھے رہیں تو بہتر اٹھیے جو اس کے در سے تو ہوجیے کہاں کے گردش سے روسیہ کی کیا کیا بلائیں آئیں جانے ہی کے ہیں لچھن سارے اس آسماں کے مشتاق ہم جو ایسے سو ہم ہی سے ہے پردہ جب اس طرف سے نکلے تب منھ کو اپنے ڈھانکے ہے پرغبار عالم جانا ہی یاں سے اچھا اس خاکداں میں رہ کر کیا کوئی خاک پھانکے کل باغ میں گئے تھے روئے چمن چمن ہم کچھ سرو میں جو پائے انداز اس جواں کے جاناں کی رہ سے آنکھیں جس تس کی لگ رہی ہیں رفتہ ہیں لوگ سارے ان پائوں کے نشاں کے خمیازہ کش رہے ہے اے میر شوق سے تو سینے کے زخم کے کہہ کیونکر رہیں گے ٹانکے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR