میر تقی میر میر تقی میر

مرا دل پیر و مرشد ہے مجھے ہے اعتقاد اس سے

مرا دل پیر و مرشد ہے مجھے ہے اعتقاد اس سے فراموش آپ کو کرنا محبت میں ہے یاد اس سے بلا انداز ہے اس کا قیامت ناز ہے اس کا اٹھے فتنے ہزار اس سے ہوئے لاکھوں فساد اس سے نزاکت جیسی ہے ویسا ہی دل بھی سخت ہے اس کا اگرچہ شیشۂ جاں ہے پہ بہتر ہے جماد اس سے کسے ہیں بند ان نے کیسے کس درویش سے ملیے جو ایسے سخت عقدوں کی طلب کریے کشاد اس سے بھلا یوں گھٹ کے مریے کب تلک دل خوں ہوا سارا جو کوئی دادگر ہووے تو کریے جاکے داد اس سے لگے ہی ایک دو رہتے ہیں مہلت بات کی کیسی ہوا ہے دشمنوں کو کچھ قیامت اتحاد اس سے پہنچ کر تہ کو ہم تو محض محرومی ہی پاتے ہیں مراد دل کو پہنچا ہو گا کوئی نامراد اس سے لیے ہی میان سے رہتا ہے کوئی یہ نہیں کہتا نکالا ہے کہاں کا تونے اے ظالم عناد اس سے ادھر توبہ کرے ہے میر ادھر لگتا ہے مے پینے کہاں تک اب تو اپنا اٹھ گیا ہے اعتماد اس سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR