میر تقی میر میر تقی میر

بہار آئی ہے غنچے گل کے نکلے ہیں گلابی سے

بہار آئی ہے غنچے گل کے نکلے ہیں گلابی سے نہال سبز جھومے ہیں گلستاں میں شرابی سے گروں ہوں ہر قدم پر میں ڈھہا جاتا ہے جی ہر دم پہنچتا ہوں کبھو در پر ترے سو اس خرابی سے نہ ٹھہری ایک چشمک بھی بسان برق آنکھوں میں کلیجہ جل گیا اے عمر تیری تو شتابی سے نکل آتے ہو گھر سے چاند سے یہ کیا طرح پکڑی قیامت ہورہے گی ایک دن اس بے حجابی سے یہ جھگڑا تنگ آ کر میں رکھا روزشمار اوپر کروں کیا تم تو لڑنے لگتے ہو حرف حسابی سے بہت رویا نوشتے پر میں اپنے دیکھ قاصد کو کہ سر ڈالے غریب آتا تھا خط کی بے جوابی سے مبادا کارواں جاتا رہے تو صبح سوتا ہو بہت ڈرتا ہوں میں اے میر تیری دیر خوابی سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR