میر تقی میر میر تقی میر

وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے

وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے عزیزاں غم میں اپنے یوسفؑ گم گشتہ کے ہر دم چلے جاتے ہیں آنسو کارواں در کارواں میرے تمھاری دشمنی ہم دوستوں سے لا نہایت ہے وگرنہ انتہا کینے کو بھی ہے مہرباں میرے لب و لہجہ غزل خوانی کا کس کو آج کل ایسا گھڑی بھر کو ہوئے مرغ چمن ہم داستاں میرے نظر مت بے پری پر کر کہ آں سوے جہاں پھر ہوں ہوئے پرواز کے قابل یہ ٹوٹے پر جہاں میرے کہاں تک سر کو دیواروں سے یوں مارا کرے کوئی رکھوں اس در پہ پیشانی نصیب ایسے کہاں میرے مجھے پامال کر یکساں کیا ہے خاک سے تو بھی وہی رہتا ہے صبح و شام درپے آسماں میرے خزاں کی بائو سے حضرت میں گلشن کے تطاول تھا تبرک ہو گئے یک دست خارآشیاں میرے کہا میں شوق میں طفلان تہ بازار کے کیا کیا سخن مشتاق ہیں اب شہر کے پیر و جواں میرے زمیں سر پر اٹھا لی کبک نے رفتار رنگیں سے خراماں ناز سے ہو تو بھی اے سرو رواں میرے سخن کیا میر کریے حسرت و اندوہ و حرماں سے بیاں حاجت نہیں حالات ہیں سارے عیاں میرے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR