میر تقی میر میر تقی میر

رکھا گنہ وفا کا تقصیر کیا نکالی

رکھا گنہ وفا کا تقصیر کیا نکالی مارا خراب کر کر تعزیر کیا نکالی رہتی ہے چت چڑھی ہی دن رات تیری صورت صفحے پہ دل کے میں نے تصویر کیا نکالی چپ بھی مری جتائی اس سے مخالفوں نے بات اور جب بنائی تقریر کیا نکالی بس تھی ہمیں تو تیری ابرو کی ایک جنبش خوں ریزی کو ہماری شمشیر کیا نکالی کی اس طبیب جاں نے تجویز مرگ عاشق آزار کے مناسب تدبیر کیا نکالی دل بند ہے ہمارا موج ہواے گل سے اب کے جنوں میں ہم نے زنجیر کیا نکالی نامے پہ لوہو رو رو خط کھینچ ڈالے سارے یہ میر بیٹھے بیٹھے تحریر کیا نکالی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR